1زیارت کا گیت۔
2اے رب، میری جان کو جھوٹے ہونٹوں اور فریب دہ زبان سے بچا۔
3اے فریب دہ زبان، وہ تیرے ساتھ کیا کرے، مزید تجھے کیا دے؟
4وہ تجھ پر جنگجو کے تیز تیر اور دہکتے کوئلے برسائے!
5مجھ پر افسوس! مجھے اجنبی ملک مسک میں، قیدار کے خیموں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔
6اِتنی دیر سے امن کے دشمنوں کے پاس رہنے سے میری جان تنگ آ گئی ہے۔
7مَیں تو امن چاہتا ہوں، لیکن جب کبھی بولوں تو وہ جنگ کرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔