1ذیل میں اُن جگہوں کے نام ہیں جہاں جہاں اسرائیلی قبیلے اپنے دستوں کے مطابق موسیٰ اور ہارون کی راہنمائی میں مصر سے نکل کر خیمہ زن ہوئے تھے۔
2رب کے حکم پر موسیٰ نے ہر جگہ کا نام قلم بند کیا جہاں اُنہوں نے اپنے خیمے لگائے تھے۔ اُن جگہوں کے نام یہ ہیں:
3پہلے مہینے کے پندرھویں دن اسرائیلی رعمسیس سے روانہ ہوئے۔ یعنی فسح کے دن کے بعد کے دن وہ بڑے اختیار کے ساتھ تمام مصریوں کے دیکھتے دیکھتے چلے گئے۔
4مصری اُس وقت اپنے پہلوٹھوں کو دفن کر رہے تھے، کیونکہ رب نے پہلوٹھوں کو مار کر اُن کے دیوتاؤں کی عدالت کی تھی۔
5رعمسیس سے اسرائیلی سُکات پہنچ گئے جہاں اُنہوں نے پہلی مرتبہ اپنے ڈیرے لگائے۔
6وہاں سے وہ ایتام پہنچے جو ریگستان کے کنارے پر واقع ہے۔
7ایتام سے وہ واپس مُڑ کر فی ہخیروت کی طرف بڑھے جو بعل صفون کے مشرق میں ہے۔ وہ مجدال کے قریب خیمہ زن ہوئے۔
8پھر وہ فی ہخیروت سے کوچ کر کے سمندر میں سے گزر گئے۔ اِس کے بعد وہ تین دن ایتام کے ریگستان میں سفر کرتے کرتے مارہ پہنچ گئے اور وہاں اپنے خیمے لگائے۔
9مارہ سے وہ ایلیم چلے گئے جہاں 12 چشمے اور کھجور کے 70 درخت تھے۔ وہاں ٹھہرنے کے بعد
10وہ بحرِ قُلزم کے ساحل پر خیمہ زن ہوئے،
11پھر دشتِ صین میں پہنچ گئے۔
12اُن کے اگلے مرحلے یہ تھے: دُفقہ،
13وہاں رب نے ہارون امام کو حکم دیا کہ وہ ہور پہاڑ پر چڑھ جائے۔ وہیں وہ پانچویں ماہ کے پہلے دن فوت ہوا۔ اسرائیلیوں کو مصر سے نکلے 40 سال گزر چکے تھے۔
14اُس وقت ہارون 123 سال کا تھا۔
15اُن دنوں میں عراد کے کنعانی بادشاہ نے سنا کہ اسرائیلی میرے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ کنعان کے جنوب میں حکومت کرتا تھا۔
16وہاں سے اُنہوں نے یردن کی وادی میں اُتر کر موآب کے میدانی علاقے میں اپنے ڈیرے لگائے۔ اب وہ دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر یریحو شہر کے سامنے تھے۔
17اُن کے خیمے بیت یسیموت سے لے کر ابیل شِطّیم تک لگے تھے۔
18وہاں رب نے موسیٰ سے کہا،
19”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم دریائے یردن کو پار کر کے ملکِ کنعان میں داخل ہو گے
20تو لازم ہے کہ تم تمام باشندوں کو نکال دو۔ اُن کے تراشے اور ڈھالے ہوئے بُتوں کو توڑ ڈالو اور اُن کی اونچی جگہوں کے مندروں کو تباہ کرو۔
21ملک پر قبضہ کر کے اُس میں آباد ہو جاؤ، کیونکہ مَیں نے یہ ملک تمہیں دے دیا ہے۔ یہ میری طرف سے تمہاری موروثی ملکیت ہے۔
22ملک کو مختلف قبیلوں اور خاندانوں میں قرعہ ڈال کر تقسیم کرنا۔ ہر خاندان کے افراد کی تعداد کا لحاظ رکھنا۔ بڑے خاندان کو نسبتاً زیادہ زمین دینا اور چھوٹے خاندان کو نسبتاً کم زمین۔
23لیکن اگر تم ملک کے باشندوں کو نہیں نکالو گے تو بچے ہوئے تمہاری آنکھوں میں خار اور تمہارے پہلوؤں میں کانٹے بن کر تمہیں اُس ملک میں تنگ کریں گے جس میں تم آباد ہو گے۔
24پھر مَیں تمہارے ساتھ وہ کچھ کروں گا جو اُن کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔“