1جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اُس کی مرکزی بات یہ ہے، ہمارا ایک ایسا امامِ اعظم ہے جو آسمان پر جلالی خدا کے تخت کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے۔
2وہاں وہ مقدِس میں خدمت کرتا ہے، اُس حقیقی ملاقات کے خیمے میں جسے انسانی ہاتھوں نے کھڑا نہیں کیا بلکہ رب نے۔
3ہر امامِ اعظم کو نذرانے اور قربانیاں پیش کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے۔ اِس لئے لازم ہے کہ ہمارے امامِ اعظم کے پاس بھی کچھ ہو جو وہ پیش کر سکے۔
4اگر یہ دنیا میں ہوتا تو امامِ اعظم نہ ہوتا، کیونکہ یہاں امام تو ہیں جو شریعت کے مطلوبہ نذرانے پیش کرتے ہیں۔
5جس مقدِس میں وہ خدمت کرتے ہیں وہ اُس مقدِس کی صرف نقلی صورت اور سایہ ہے جو آسمان پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ کو ملاقات کا خیمہ بنانے سے پہلے آگاہ کر کے یہ کہا، ”غور کر کہ سب کچھ عین اُس نمونے کے مطابق بنایا جائے جو مَیں تجھے یہاں پہاڑ پر دکھاتا ہوں۔“
6لیکن جو خدمت عیسیٰ کو مل گئی ہے وہ دنیا کے اماموں کی خدمت سے کہیں بہتر ہے، اُتنی بہتر جتنا وہ عہد جس کا درمیانی عیسیٰ ہے پرانے عہد سے بہتر ہے۔ کیونکہ یہ عہد بہتر وعدوں کی بنیاد پر باندھا گیا۔
7اگر پہلا عہد بےالزام ہوتا تو پھر نئے عہد کی ضرورت نہ ہوتی۔
8لیکن اللہ کو اپنی قوم پر الزام لگانا پڑا۔ اُس نے کہا،
9یہ اُس عہد کی مانند نہیں ہو گا
10خداوند فرماتا ہے کہ
11اُس وقت سے اِس کی ضرورت نہیں رہے گی
12کیونکہ مَیں اُن کا قصور معاف کروں گا
13اِن الفاظ میں اللہ ایک نئے عہد کا ذکر کرتا ہے اور یوں پرانے عہد کو متروک قرار دیتا ہے۔ اور جو متروک اور پرانا ہے اُس کا انجام قریب ہی ہے۔