We Believe JesusFé, Esperança e Nova Vida

نحمیاہ 5

کتابِ مقدّس · urdu

← نحمیاہ 4 نحمیاہ نحمیاہ 6 →

1کچھ دیر بعد کچھ مرد و خواتین میرے پاس آ کر اپنے یہودی بھائیوں کی شکایت کرنے لگے۔

2بعض نے کہا، ”ہمارے بہت زیادہ بیٹے بیٹیاں ہیں، اِس لئے ہمیں مزید اناج ملنا چاہئے، ورنہ ہم زندہ نہیں رہیں گے۔“

3دوسروں نے شکایت کی، ”کال کے دوران ہمیں اپنے کھیتوں، انگور کے باغوں اور گھروں کو گروی رکھنا پڑا تاکہ اناج مل جائے۔“

4کچھ اَور بولے، ”ہمیں اپنے کھیتوں اور انگور کے باغوں پر بادشاہ کا ٹیکس ادا کرنے کے لئے اُدھار لینا پڑا۔

5ہم بھی دوسروں کی طرح یہودی قوم کے ہیں، اور ہمارے بچے اُن سے کم حیثیت نہیں رکھتے۔ توبھی ہمیں اپنے بچوں کو غلامی میں بیچنا پڑتا ہے تاکہ گزارہ ہو سکے۔ ہماری کچھ بیٹیاں لونڈیاں بن چکی ہیں۔ لیکن ہم خود بےبس ہیں، کیونکہ ہمارے کھیت اور انگور کے باغ دوسروں کے قبضے میں ہیں۔“

6اُن کا واویلا اور شکایتیں سن کر مجھے بڑا غصہ آیا۔

7بہت سوچ بچار کے بعد مَیں نے شرفا اور افسروں پر الزام لگایا، ”آپ اپنے ہم وطن بھائیوں سے غیرمناسب سود لے رہے ہیں!“ مَیں نے اُن سے نپٹنے کے لئے ایک بڑی جماعت اکٹھی کر کے

8کہا، ”ہمارے کئی ہم وطن بھائیوں کو غیریہودیوں کو بیچا گیا تھا۔ جہاں تک ممکن تھا ہم نے اُنہیں واپس خرید کر آزاد کرنے کی کوشش کی۔ اور اب آپ خود اپنے ہم وطن بھائیوں کو بیچ رہے ہیں۔ کیا ہم اب اُنہیں دوبارہ واپس خریدیں؟“ وہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔

9مَیں نے بات جاری رکھی، ”آپ کا یہ سلوک ٹھیک نہیں۔ آپ کو ہمارے خدا کا خوف مان کر زندگی گزارنا چاہئے تاکہ ہم اپنے غیریہودی دشمنوں کی لعن طعن کا نشانہ نہ بنیں۔

10مَیں، میرے بھائیوں اور ملازموں نے بھی دوسروں کو اُدھار کے طور پر پیسے اور اناج دیا ہے۔ لیکن آئیں، ہم اُن سے سود نہ لیں!

11آج ہی اپنے قرض داروں کو اُن کے کھیت، گھر اور انگور اور زیتون کے باغ واپس کر دیں۔ جتنا سود آپ نے لگایا تھا اُسے بھی واپس کر دیں، خواہ اُسے پیسوں، اناج، تازہ مَے یا زیتون کے تیل کی صورت میں ادا کرنا ہو۔“

12اُنہوں نے جواب دیا، ”ہم اُسے واپس کر دیں گے اور آئندہ اُن سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ جو کچھ آپ نے کہا وہ ہم کریں گے۔“

13پھر مَیں نے اپنے لباس کی تہیں جھاڑ جھاڑ کر کہا، ”جو بھی اپنی قَسم توڑے اُسے اللہ اِسی طرح جھاڑ کر اُس کے گھر اور ملکیت سے محروم کر دے!“

14اصل میں ماضی کے گورنروں نے قوم پر بڑا بوجھ ڈال دیا تھا۔ اُنہوں نے رعایا سے نہ صرف روٹی اور مَے بلکہ فی دن چاندی کے 40 سِکے بھی لئے تھے۔ اُن کے افسروں نے بھی عام لوگوں سے غلط فائدہ اُٹھایا تھا۔ لیکن چونکہ مَیں اللہ کا خوف مانتا تھا، اِس لئے مَیں نے اُن سے ایسا سلوک نہ کیا۔

15میری پوری طاقت فصیل کی تکمیل میں صَرف ہوئی، اور میرے تمام ملازم بھی اِس کام میں شریک رہے۔ ہم میں سے کسی نے بھی زمین نہ خریدی۔

16مَیں نے کچھ نہ مانگا حالانکہ مجھے روزانہ یہوداہ کے 150 افسروں کی مہمان نوازی کرنی پڑتی تھی۔ اُن میں وہ تمام مہمان شامل نہیں ہیں جو گاہے بگاہے پڑوسی ممالک سے آتے رہے۔

17روزانہ ایک بَیل، چھ بہترین بھیڑبکریاں اور بہت سے پرندے میرے لئے ذبح کر کے تیار کئے جاتے، اور دس دس دن کے بعد ہمیں کئی قسم کی بہت سی مَے خریدنی پڑتی تھی۔ اِن اخراجات کے باوجود مَیں نے گورنر کے لئے مقررہ وظیفہ نہ مانگا، کیونکہ قوم پر بوجھ ویسے بھی بہت زیادہ تھا۔

18اے میرے خدا، جو کچھ مَیں نے اِس قوم کے لئے کیا ہے اُس کے باعث مجھ پر مہربانی کر۔

← نحمیاہ 4 نحمیاہ نحمیاہ 6 →

نحمیاہ 5 — urdu:

इंडियन रिवाइज्ड वर्जन (IRV) उर्दू - 2019किताबे-मुक़द्दसKitab-i Muqaddas