1اِس کے بعد میرا راہنما مجھے رب کے گھر کے پہلے کمرے یعنی ’مُقدّس کمرا‘ میں لے گیا۔ اُس نے دروازے کے ستون نما بازو ناپے تو معلوم ہوا کہ ساڑھے دس دس فٹ موٹے ہیں۔
2دروازے کی چوڑائی ساڑھے 17 فٹ تھی، اور دائیں بائیں کی دیواریں پونے نو نو فٹ لمبی تھیں۔ کمرے کی پوری لمبائی 70 فٹ اور چوڑائی 35 فٹ تھی۔
3پھر وہ آگے بڑھ کر سب سے اندرونی کمرے میں داخل ہوا۔ اُس نے دروازے کے ستون نما بازوؤں کی پیمائش کی تو معلوم ہوا کہ ساڑھے تین تین فٹ موٹے ہیں۔ دروازے کی چوڑائی ساڑھے 10 فٹ تھی، اور دائیں بائیں کی دیواریں سوا بارہ بارہ فٹ لمبی تھیں۔
4اندرونی کمرے کی لمبائی اور چوڑائی پینتیس پینتیس فٹ تھی۔ وہ بولا، ”یہ مُقدّس ترین کمرا ہے۔“
5پھر اُس نے رب کے گھر کی بیرونی دیوار ناپی۔ اُس کی موٹائی ساڑھے 10 فٹ تھی۔ دیوار کے ساتھ ساتھ کمرے تعمیر کئے گئے تھے۔ ہر کمرے کی چوڑائی 7 فٹ تھی۔
6کمروں کی تین منزلیں تھیں، کُل 30 کمرے تھے۔ رب کے گھر کی بیرونی دیوار دوسری منزل پر پہلی منزل کی نسبت کم موٹی اور تیسری منزل پر دوسری منزل کی نسبت کم موٹی تھی۔ نتیجتاً ہر منزل کا وزن اُس کی بیرونی دیوار پر تھا اور ضرورت نہیں تھی کہ اِس دیوار میں شہتیر لگائیں۔
7چنانچہ دوسری منزل پہلی کی نسبت چوڑی اور تیسری دوسری کی نسبت چوڑی تھی۔ ایک سیڑھی نچلی منزل سے دوسری اور تیسری منزل تک پہنچاتی تھی۔
8اِس کھلی جگہ کے مغرب میں ایک عمارت تھی جو ساڑھے ایک سَو 57 فٹ لمبی اور ساڑھے ایک سَو 22 فٹ چوڑی تھی۔ اُس کی دیواریں چاروں طرف پونے نو نو فٹ موٹی تھیں۔
9پھر میرے راہنما نے باہر سے رب کے گھر کی پیمائش کی۔ اُس کی لمبائی 175 فٹ تھی۔ رب کے گھر کی پچھلی دیوار سے مغربی عمارت تک کا فاصلہ بھی 175 فٹ تھا۔
10پھر اُس نے رب کے گھر کے سامنے والی یعنی مشرقی دیوار شمال اور جنوب میں کھلی جگہ سمیت کی پیمائش کی۔ معلوم ہوا کہ اُس کا فاصلہ بھی 175 فٹ ہے۔
11اُس نے مغرب میں اُس عمارت کی لمبائی ناپی جو رب کے گھر کے پیچھے تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ بھی دونوں پہلوؤں کی گزرگاہوں سمیت 175 فٹ لمبی ہے۔
12فرش سے لے کر کھڑکیوں تک لکڑی کے تختے لگائے گئے تھے۔ اِن کھڑکیوں کو بند کیا جا سکتا تھا۔
13رب کے گھر کی اندرونی دیواروں پر دروازوں کے اوپر تک تصویریں کندہ کی گئی تھیں۔
14کھجور کے درختوں اور کروبی فرشتوں کی تصویریں باری باری نظر آتی تھیں۔ ہر فرشتے کے دو چہرے تھے۔
15انسان کا چہرہ ایک طرف کے درخت کی طرف دیکھتا تھا جبکہ شیرببر کا چہرہ دوسری طرف کے درخت کی طرف دیکھتا تھا۔ یہ درخت اور کروبی پوری دیوار پر باری باری منقّش کئے گئے تھے،
16فرش سے لے کر دروازوں کے اوپر تک۔
17مُقدّس کمرے میں داخل ہونے والے دروازے کے دونوں بازو مربع تھے۔
18لکڑی کی قربان گاہ نظر آئی۔ اُس کی اونچائی سوا 5 فٹ اور چوڑائی ساڑھے تین فٹ تھی۔ اُس کے کونے، پایہ اور چاروں پہلو لکڑی سے بنے تھے۔ اُس نے مجھ سے کہا، ”یہ وہی میز ہے جو رب کے حضور رہتی ہے۔“
19مُقدّس کمرے میں داخل ہونے کا ایک دروازہ تھا اور مُقدّس ترین کمرے کا ایک۔
20ہر دروازے کے دو کواڑ تھے، وہ درمیان میں سے کھلتے تھے۔
21دیواروں کی طرح مُقدّس کمرے کے دروازے پر بھی کھجور کے درخت اور کروبی فرشتے کندہ کئے گئے تھے۔ اور برآمدے کے باہر والے دروازے کے اوپر لکڑی کی چھوٹی سی چھت بنائی گئی تھی۔
22برآمدے کے دونوں طرف کھڑکیاں تھیں، اور دیواروں پر کھجور کے درخت کندہ کئے گئے تھے۔