1خبردار! اپنے نیک کام لوگوں کے سامنے دکھاوے کے لئے نہ کرو، ورنہ تم کو اپنے آسمانی باپ سے کوئی اجر نہیں ملے گا۔
2چنانچہ خیرات دیتے وقت ریاکاروں کی طرح نہ کر جو عبادت خانوں اور گلیوں میں بِگل بجا کر اِس کا اعلان کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی عزت کریں۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جتنا اجر اُنہیں ملنا تھا اُنہیں مل چکا ہے۔
3اِس کے بجائے جب تُو خیرات دے تو تیرے دائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ بایاں ہاتھ کیا کر رہا ہے۔
4تیری خیرات یوں پوشیدگی میں دی جائے تو تیرا باپ جو پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے تجھے اِس کا معاوضہ دے گا۔
5دعا کرتے وقت ریاکاروں کی طرح نہ کرنا جو عبادت خانوں اور چوکوں میں جا کر دعا کرنا پسند کرتے ہیں، جہاں سب اُنہیں دیکھ سکیں۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جتنا اجر اُنہیں ملنا تھا اُنہیں مل چکا ہے۔
6اِس کے بجائے جب تُو دعا کرتا ہے تو اندر کے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر اور پھر اپنے باپ سے دعا کر جو پوشیدگی میں ہے۔ پھر تیرا باپ جو پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے تجھے اِس کا معاوضہ دے گا۔
7دعا کرتے وقت غیریہودیوں کی طرح طویل اور بےمعنی باتیں نہ دہراتے رہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری بہت سی باتوں کے سبب سے ہماری سنی جائے گی۔
8اُن کی مانند نہ بنو، کیونکہ تمہارا باپ پہلے سے تمہاری ضروریات سے واقف ہے،
9بلکہ یوں دعا کیا کرو،
10تیری بادشاہی آئے۔
11ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔
12ہمارے گناہوں کو معاف کر
13اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے
14کیونکہ جب تم لوگوں کے گناہ معاف کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تم کو معاف کرے گا۔
15لیکن اگر تم اُنہیں معاف نہ کرو تو تمہارا باپ بھی تمہارے گناہ معاف نہیں کرے گا۔
16روزہ رکھتے وقت ریاکاروں کی طرح منہ لٹکائے نہ پھرو، کیونکہ وہ ایسا روپ بھرتے ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ روزہ سے ہیں۔ مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جتنا اجر اُنہیں ملنا تھا اُنہیں مل چکا ہے۔
17ایسا مت کرنا بلکہ روزہ کے وقت اپنے بالوں میں تیل ڈال اور اپنا منہ دھو۔
18پھر لوگوں کو معلوم نہیں ہو گا کہ تُو روزہ سے ہے بلکہ صرف تیرے باپ کو جو پوشیدگی میں ہے۔ اور تیرا باپ جو پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے تجھے اِس کا معاوضہ دے گا۔
19اِس دنیا میں اپنے لئے خزانے جمع نہ کرو، جہاں کیڑا اور زنگ اُنہیں کھا جاتے اور چور نقب لگا کر چُرا لیتے ہیں۔
20اِس کے بجائے اپنے خزانے آسمان پر جمع کرو جہاں کیڑا اور زنگ اُنہیں تباہ نہیں کر سکتے، نہ چور نقب لگا کر چُرا سکتے ہیں۔
21کیونکہ جہاں تیرا خزانہ ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہے گا۔
22بدن کا چراغ آنکھ ہے۔ اگر تیری آنکھ ٹھیک ہو تو پھر تیرا پورا بدن روشن ہو گا۔
23لیکن اگر تیری آنکھ خراب ہو تو تیرا پورا بدن اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا۔ اور اگر تیرے اندر کی روشنی تاریکی ہو تو یہ تاریکی کتنی شدید ہو گی!
24کوئی بھی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔ یا تو وہ ایک سے نفرت کر کے دوسرے سے محبت رکھے گا یا ایک سے لپٹ کر دوسرے کو حقیر جانے گا۔ تم ایک ہی وقت میں اللہ اور دولت کی خدمت نہیں کر سکتے۔
25اِس لئے مَیں تمہیں بتاتا ہوں، اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پریشان نہ رہو کہ ہائے، مَیں کیا کھاؤں اور کیا پیوں۔ اور جسم کے لئے فکرمند نہ رہو کہ ہائے، مَیں کیا پہنوں۔ کیا زندگی کھانے پینے سے اہم نہیں ہے؟ اور کیا جسم پوشاک سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا؟
26پرندوں پر غور کرو۔ نہ وہ بیج بوتے، نہ فصلیں کاٹ کر اُنہیں گودام میں جمع کرتے ہیں۔ تمہارا آسمانی باپ خود اُنہیں کھانا کھلاتا ہے۔ کیا تمہاری اُن کی نسبت زیادہ قدر و قیمت نہیں ہے؟
27کیا تم میں سے کوئی فکر کرتے کرتے اپنی زندگی میں ایک لمحے کا بھی اضافہ کر سکتا ہے؟
28اور تم اپنے کپڑوں کے لئے کیوں فکرمند ہوتے ہو؟ غور کرو کہ سوسن کے پھول کس طرح اُگتے ہیں۔ نہ وہ محنت کرتے، نہ کاتتے ہیں۔
29لیکن مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ سلیمان بادشاہ اپنی پوری شان و شوکت کے باوجود ایسے شاندار کپڑوں سے ملبّس نہیں تھا جیسے اُن میں سے ایک۔
30اگر اللہ اُس گھاس کو جو آج میدان میں ہے اور کل آگ میں جھونکی جائے گی ایسا شاندار لباس پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو، وہ تم کو پہنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کرے گا؟
31چنانچہ پریشانی کے عالم میں فکر کرتے کرتے یہ نہ کہتے رہو، ’ہم کیا کھائیں؟ ہم کیا پئیں؟ ہم کیا پہنیں؟‘
32کیونکہ جو ایمان نہیں رکھتے وہی اِن تمام چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں جبکہ تمہارے آسمانی باپ کو پہلے سے معلوم ہے کہ تم کو اِن تمام چیزوں کی ضرورت ہے۔
33پہلے اللہ کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش میں رہو۔ پھر یہ تمام چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔
34اِس لئے کل کے بارے میں فکر کرتے کرتے پریشان نہ ہو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ ہر دن کی اپنی مصیبتیں کافی ہیں۔