1سردیس میں موجود جماعت کے فرشتے کو یہ لکھ دینا:
2جاگ اُٹھ! جو باقی رہ گیا ہے اور مرنے والا ہے اُسے مضبوط کر۔ کیونکہ مَیں نے تیرے کام اپنے خدا کی نظر میں مکمل نہیں پائے۔
3چنانچہ جو کچھ تجھے ملا ہے اور جو تُو نے سنا ہے اُسے یاد رکھنا۔ اُسے محفوظ رکھ اور توبہ کر۔ اگر تُو بیدار نہ ہو تو مَیں چور کی طرح آؤں گا اور تجھے معلوم نہیں ہو گا کہ مَیں کب تجھ پر آن پڑوں گا۔
4لیکن سردیس میں تیرے کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لباس آلودہ نہیں کئے۔ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے میرے ساتھ چلیں پھریں گے، کیونکہ وہ اِس کے لائق ہیں۔
5جو غالب آئے گا وہ بھی اُن کی طرح سفید کپڑے پہنے ہوئے پھرے گا۔ مَیں اُس کا نام کتابِ حیات سے نہیں مٹاؤں گا بلکہ اپنے باپ اور اُس کے فرشتوں کے سامنے اقرار کروں گا کہ یہ میرا ہے۔
6جو سن سکتا ہے وہ سن لے کہ روح القدس جماعتوں کو کیا کچھ بتا رہا ہے۔
7فلدلفیہ میں موجود جماعت کے فرشتے کو یہ لکھ دینا:
8مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہوں۔ دیکھ، مَیں نے تیرے سامنے ایک ایسا دروازہ کھول رکھا ہے جسے کوئی بند نہیں کر سکتا۔ مجھے معلوم ہے کہ تیری طاقت کم ہے۔ لیکن تُو نے میرے کلام کو محفوظ رکھا ہے اور میرے نام کا انکار نہیں کیا۔
9دیکھ، جہاں تک اُن کا تعلق ہے جو ابلیس کی جماعت سے ہیں، وہ جو یہودی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں، مَیں اُنہیں تیرے پاس آنے دوں گا، اُنہیں تیرے پاؤں میں جھک کر یہ تسلیم کرنے پر مجبور کروں گا کہ مَیں نے تجھے پیار کیا ہے۔
10تُو نے میرا ثابت قدم رہنے کا حکم پورا کیا، اِس لئے مَیں تجھے آزمائش کی اُس گھڑی سے بچائے رکھوں گا جو پوری دنیا پر آ کر اُس میں بسنے والوں کو آزمائے گی۔
11مَیں جلد آ رہا ہوں۔ جو کچھ تیرے پاس ہے اُسے مضبوطی سے تھامے رکھنا تاکہ کوئی تجھ سے تیرا تاج چھین نہ لے۔
12جو غالب آئے گا اُسے مَیں اپنے خدا کے گھر میں ستون بناؤں گا، ایسا ستون جو اُسے کبھی نہیں چھوڑے گا۔ مَیں اُس پر اپنے خدا کا نام اور اپنے خدا کے شہر کا نام لکھ دوں گا، اُس نئے یروشلم کا نام جو میرے خدا کے ہاں سے اُترنے والا ہے۔ ہاں، مَیں اُس پر اپنا نیا نام بھی لکھ دوں گا۔
13جو سن سکتا ہے وہ سن لے کہ روح القدس جماعتوں کو کیا کچھ بتا رہا ہے۔
14لودیکیہ میں موجود جماعت کے فرشتے کو یہ لکھ دینا:
15مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہوں۔ تُو نہ تو سرد ہے، نہ گرم۔ کاش تُو اِن میں سے ایک ہوتا!
16لیکن چونکہ تُو نیم گرم ہے، نہ گرم، نہ سرد، اِس لئے مَیں تجھے قَے کر کے اپنے منہ سے نکال پھینکوں گا۔
17تُو کہتا ہے، ’مَیں امیر ہوں، مَیں نے بہت دولت حاصل کر لی ہے اور مجھے کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں۔‘ اور تُو نہیں جانتا کہ تُو اصل میں بدبخت، قابلِ رحم، غریب، اندھا اور ننگا ہے۔
18مَیں تجھے مشورہ دیتا ہوں کہ مجھ سے آگ میں خالص کیا گیا سونا خرید لے۔ تب ہی تُو دولت مند بنے گا۔ اور مجھ سے سفید لباس خریدلے جس کو پہننے سے تیرے ننگے پن کی شرم ظاہر نہیں ہو گی۔ اِس کے علاوہ مجھ سے آنکھوں میں لگانے کے لئے مرہم خرید لے تاکہ تُو دیکھ سکے۔
19جن کو مَیں پیار کرتا ہوں اُن کی مَیں سزا دے کر تربیت کرتا ہوں۔ اب سنجیدہ ہو جا اور توبہ کر۔
20دیکھ، مَیں دروازے پر کھڑا کھٹکھٹا رہا ہوں۔ اگر کوئی میری آواز سن کر دروازہ کھولے تو مَیں اندر آ کر اُس کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے ساتھ۔
21جو غالب آئے اُسے مَیں اپنے ساتھ اپنے تخت پر بیٹھنے کا حق دوں گا، بالکل اُسی طرح جس طرح مَیں خود بھی غالب آ کر اپنے باپ کے ساتھ اُس کے تخت پر بیٹھ گیا۔
22جو سن سکتا ہے وہ سن لے کہ روح القدس جماعتوں کو کیا کچھ بتا رہا ہے۔“